تمباکو نوشی اور کورونا وائرس

کیا تمباکو نوشی کرنے والوں کے کورونا وائرس سے بیمار ہونے کے زیادہ امکان ہیں؟

ایک حالیہ خبر کی سرخی کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والوں میں “کورونا وائرس کے امکانات 14 گنا زیادہ ہیں”۔  تاہم ، یہ  حتمی نہیں ہے۔  یہ اعداد و شمار دراصل تمباکو نوشی کرنے والوں کے وائرس سے متاثر ہونےکے خطرے کا حوالہ نہیں دیتے ہیں۔  اس کے بجائے ، زیربحث تحقیق میں بتایا گیا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں ان لوگوں کی نسبت جو تمباکو نوشی نہیں کرتے 14  گنا زیادہ کورونا وائرس کی بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

 تمباکو نوشی دل کے پھیپھڑوں اور خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے جو کورونا وائرس سے متاثرہ ہوتے ہیں ان میں تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت سنگین پیچیدگیوں کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔  سگریٹ پینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگ کثرت سے اپنے منہ کو چھوتے ہیں اور اس کو چھو کر ہی  وہ سگریٹ یا پائپ کا پف لیتے ہیں، اور یہ بھی وائرس سے متاثر ہونے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔  عام طور پر تمباکو نوشی کے سامان کی کچھ قسمیں ، جیسے حقہ اور شیشا میں پف کے پائپ مشترکہ ہوتے ہیں۔  آپ کے منہ کو چھونے کے بعد ان پائپوں کو بانٹنے سے اس وائرس سے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کہانی کہاں سے آئی؟ 

سن آرٹیکل  پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) پر مبنی ہے جس نے تمباکو نوشی کرنے والوں کو انتباہ کیا تھا کہ انھیں کورونا وائرس سے شدید بیماری کا زیادہ امکان ہے۔  بدقسمتی سے ، سن آرٹیکل کی سرخی اس انتباہ کی بنیاد غلط دیتی ہے ، کیونکہ زیربحث تحقیق میں یہ نہیں پایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو کورونا وائرس ہونے کا زیادہ امکان ہے۔  اس کے بجائے ، یہ پتہ چلا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کورنا وائرس میں زیادہ سنگین پیچیدگیاں  پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *