کوویڈ ۱۹ کیسے پھیلتا ہے

یہ وائرس بنیادی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلتا ہے۔

 ایسے لوگوں کے درمیان جو ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہیں( تقریبا 6.6 فٹ کے اندر)۔

 سانس کی بوندو سے پیدا ہوتا ہے جب متاثرہ شخص کھانسی,  چھینک یا باتیں کرتا ہے۔

 یہ بوندیں  آس پاس کے لوگوں کے منہ یا ناک میں اتر سکتی ہیں جو ممکنہ طور پر پھیپھڑوں میں سانس لیتے وقت جاسکتی ہیں۔ 

کچھ حالیہ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ وائرس ان لوگوں کے ذریعہ بھی پھیل سکتا ہے جو علامات ظاہر نہیں کرتے ہیں۔

 کویڈ  19  کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاشرتی فاصلہ (تقریبا 6.6 فٹ ) برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

آلودہ سطحوں یا اشیاء کے چھونے سے پھیلاؤ۔

یہ ممکن ہے کہ کوئی فرد کسی ایسی سطح یا شے کو چھونے سے کویڈ  19  کا وائرس لگا لے جس پر یہ پہلے سے موجود ہو اور پھر اپنے منہ ، ناک یا ممکنہ طور پر آنکھوں کو چھونے سے۔  ایسا نہی ہے کہ  یہ وائرس کے پھیلنے کا مرکزی ذریعہ ہے ، لیکن اب بھی اس وائرس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ روشن یوتھ ویلفئیر آرگنائیزیشن لوگوں کو بار بار “ہاتھوں کی صفائی” پر عمل کرنے کی درخواست کرتا ہے ، جو یا تو صابن یا پانی سے ہاتھ دھونا ہے یا سینیٹائیزر سے صاف رکھنا۔ روشن یوتھ ویلفئیر آرگنائیزیشن کثر ت سے چھوئے جانی والی سطحوں کی معمول کی صفائی کی بھی تجویز دیتا ہے۔

  یہ وائرس کتنی آسانی سے پھیلتا ہے

یہ وائرس کتنی آسانی سے پھیل سکتا ہے یہ مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ وائرس خسرہ کی طرح انتہائی متعدی ہوتے ہیں ، جبکہ کچھ وائرس آسانی سے نہیں پھیلتے ہیں۔  ایک اور عنصر یہ بھی ہے کہ آیا پھیلاؤ مسلسل ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ بغیر کسی رکاو کے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیل رہا ہے۔

  وائرس جو کویڈ 19 کا سبب بنتا ہے لوگوں میں آسانی سے اور مسلسل پھیل رہا ہے۔  

ہال میں جاری کوویڈ 19 کی وبائی بیماری سے حاصل ہونے والی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا سے کہیں زیادہ موثر انداز میں پھیل رہا ہے ، لیکن خسرہ کی طرح موثر انداز میں نہیں ، جو انتہائی متعدی ہے۔