سفر کرنے والوں کے لیے

سفری مشورہ

عامۃ الناس کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان سے باہر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اگر پاکستان سے باہر ایسے ممالک/خطوں کا سفر ناگزیر ہو تو، انہیں سرجیکل ماسک پہننا چاہیے اور اورپاکستان پلٹنے کے بعد 14 ایام تک ایسا کرنا جاری رکھنا چاہیے۔ عامۃ الناس کو چاہیے کہ وہ درج ذیل مشورہ برائے صحت پر عمل درآمد کریں۔

جب کوویڈ ۱۹ وائرس کے متحرک کمیونٹی ٹرانسمیشن والے ممالک / علاقوں کا سفر کریں تو عوام کو بخار یا سانس کی علامات والے افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کرنا چاہئے۔ اگر ان کے ساتھ رابطے کرنا ناگزیر ہے تو ، سرجیکل ماسک لگائیں اور پاکستان واپس آنے کے 14 دن بعد تک ایسا ہی کرتے رہیں؛۔

ہسپتالوں میں جانے سے گریز کریں۔ اگر ہسپتال جانا ضروری ہو تو، سرجیکل ماسک پہن لیں اور ذاتی اور ہاتھوں کی صفائی کا اہتمام کریں؛

جانوروں (بشمول شکار شدہ جانور)، پولٹری/پرندے اور ان کے بچوں کو چھونے سے گریز کریں؛

 نم زدہ مارکیٹوں، زندہ پولٹری والی مارکیٹوں اور فارموں میں جانے سے گریز کریں؛ 

 مریضوں کے ساتھ قریبی ربط سے گریز کریں، بالخصوص جن میں شدید تنفسی وبائی امراض کی علامات موجود ہوں؛

گوشت کا استعمال نہ (اگر ممکن ہو) کریں اور خوراک فراہم کرنے والے ان مقامات کی حوصلہ افزائی نہ کریں جہاں شکار کا گوشت پیش کیا جاتا ہو؛


خوراک کے تحفظ اور حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کریں جیسا کہ خام اور ادھ پکی حیوانی اشیاء کے استعمال سے گریز کریں، بشمول دودھ، انڈے اور گوشت، یا ایسی خوراک جو کہ جانوروں کی رطوبات، اخراجات (جیسا کہ پیشاب) یا آلودہ اشیاء سے آلودہ ہو سکتی ہو، الا یہ ان کو اچھی طرح پکایا، دھویا اور چھیلا گیا ہو؛

اگر پاکستان سے باہر طبیعت خراب محسوس ہو، بالخصوص اگر آپ بخار یا کھانسی محسوس کر رہے ہوں تو، سرجیکل ماسک پہنیں، ہوٹل عملے یا نگران دورہ کو مطلع کریں اور فوری طور پر طبی مشورہ طلب کریں؛
اور

پاکستان سے پلٹنے کے بعد، فوری طور پر ڈاکٹر سے مشاورت کریں اگر آپ کو بخار اور دیگر علامات محسوس ہوں، پہل کرتے ہوئے ڈاکٹر کو اپنی تازہ سفری ہسٹری اور جانوروں کے ساتھ معاملہ بندی سے مطلع کریں، اور بیماری کے پھیلاؤ سے روکنے میں معاونت کے لیے سرجیکل ماسک پہنیں۔